آج خود کو قریب سے جانا
خشک پتوں پہ جب چلا خود میں
شور تھا اور بے بسی بھی تھی
اپنے پاؤں میں آ لگا خود میں
درد سینے میں یوں اُٹھا جیسے
اپنی گردن پہ چڑھ گیا خود میں
سسکیاں اور سرسراہٹ تھی
جیسے پتوں میں جا پڑا خود میں
ایک فوٹو فریم تحفہ ملا
اور دیوار میں لگا خود میں
خواب بھی رات اک عجب آیا
خود ہی دیکھا کہ ہوں مرا خود میں
سارے پتوں کو پھر لگا کر آگ
سر سے پاؤں تلک جلا خود میں
امجد علی
No comments:
Post a Comment