Monday, 3 May 2021

عکس کی جان پر بنی ہوئی ہے

 عکس کی جان پر بنی ہوئی ہے 

آئینے میں ہوا چلی ہوئی ہے 

پھیل جائے نہ ساری بستی میں 

بات دیوار نے سُنی ہوئی ہے 

شوق ہے روشنی کو چھُونے کا 

ہاتھ پر تیرگی مَلی ہوئی ہے 

گفتگو کی تو خیر بات ہی کیا

خامشی بھی تِری گھڑی ہوئی ہے


آفتاب نواب

No comments:

Post a Comment