Monday, 3 May 2021

آتشی و آفتابی کر گیا خواب کا منظر گلابی کر گیا

 آتشی و آفتابی کر گیا

خواب کا منظر گلابی کر گیا

اک صدی بھر کی مسافت ایک پَل

دل کو گویا ماہتابی کر گیا

شب گزیدہ آ گیا کس کا خیال

رُوئے تاباں آفتابی کر گیا

بخت سے لی ایک ساعت مستعار

اور دُعا کی بے حجابی کر گیا

کر گیا لہجے کو شبنم آشنا

اور ان آنکھوں کو آبی کر گیا

شرطِ اقرارِ ولایت ہی تو تھا

دل دھڑکن کو صحابی کر گیا

فاصلے ثروت نہیں سمٹے کبھی

وسوسہ ایسی خرابی کر گیا


ثروت رضوی

No comments:

Post a Comment