Monday, 3 May 2021

اے چشم فسوں ساز فسانے ہیں بہت سے

 اے چشمِ فسوں ساز فسانے ہیں بہت سے

لگتا ہے تِری زد پہ نشانے ہیں بہت سے

تجدیدِ تعلق کے بھی رستے نہیں مسدود

اور چھوڑنا چاہو تو بہانے ہیں بہت سے

ہر ایک کی قسمت میں نہیں وقت پہ مرنا

اس دل نے ابھی رنج اُٹھانے ہیں بہت سے

تعمیر کا سوچو گے تو محفوظ رہو گے

توڑو گے تو پھر آئینہ خانے ہیں بہت سے

اک تو یہ ہوا مجھ سے خدا رُوٹھ گیا ہے

اس پر یہ ستم لوگ منانے ہیں بہت سے

باتوں میں لگا کر اسے لانا ہے سحر تک

قصے شبِ ہجراں کو سنانے ہیں بہت سے

وہ موج میں آیا تو بدل ڈالے گا دنیا

درویش کے کاسے میں زمانے ہیں بہت سے


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment