عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تصویر تِری دل میں ہر سُو ہی لگائی ہے
دھڑکن نے تِری خاطر کیا بزم سجائی ہے
دھڑکن کی صدا میں ہے تیرا ہی فقط چرچا
تیرے لیے ہی دل کا اندازِ نوائی ہے
ہے تُو ہی حسیں جگ میں تقریر نہیں اس پر
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تصویر تِری دل میں ہر سُو ہی لگائی ہے
دھڑکن نے تِری خاطر کیا بزم سجائی ہے
دھڑکن کی صدا میں ہے تیرا ہی فقط چرچا
تیرے لیے ہی دل کا اندازِ نوائی ہے
ہے تُو ہی حسیں جگ میں تقریر نہیں اس پر
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ میری سکونت کا کیا خوب بہانہ ہے
دل میں تِری چاہت کا بھرپور خزانہ ہے
لہجے میں مِرے تو ہے جھلکے ہے نگاہوں میں
تن کا یہ مِرے پنجرہ تیرا ہی تو خانہ ہے
تُو میرا زمانہ ہے تُو ہی مِری دنیا ہے
تُو ہی مِری دنیا ہے، تُو میرا زمانہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عظمت مِرے آقاؐ نے کیا خوب یہ پائی ہے
مسند تو چٹائی ہے،۔ قوسین رسائی ہے
تم مان لو یہ جنّت باندی ہے مدینے کی
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
اب جاں پہ بن آئی ہے دیدار ہو اے آقاﷺ
دیدار ہو اے آقاﷺ اب جاں پہ بن آئی ہے
زندگی میں کبھی نہ تھا سب کچھ
تم ملے تو مجھے ملا سب کچھ
چاہتا ہے جو عشق کی دولت
راہِ الفت میں تو لٹا سب کچھ
کل جہاں میں مرا ہے کیا ہمدم
اب تو سب کچھ ہوا ترا، سب کچھ
یہ میری سکونت کا کیا خوب بہانہ ہے
دل میں تِری چاہت کا بھرپور خزانہ ہے
لہجے میں مِرے تو ہے جھلکے ہے نگاہوں میں
تن کا یہ مِرے پنجرہ تیرا ہی تو خانہ ہے
تُو میرا زمانہ ہے تُو ہی مِری دنیا ہے
تُو ہی مِری دنیا ہے تُو میرا زمانہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
آؤ، اے حاجیو! احمدﷺ کا سراپا دیکھو
لطفِ کوثر کا تمہیں آئے گا پانی پی کر
انؐ کی ٹھوکر سے نکلتا ہوا دریا دیکھو
کیسی ہوتی ہے تڑپ عشق کی اے عاشقِ جاں
شمعِ اُمید میں پروانے کا جلنا دیکھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ بشر عالم میں بے حد خُوب ہے
جس کو بھی در آپؐ کا مطلُوب ہے
دو جہاں قدموں تلے جس کے رہیں
وہ فقط رب کا مِرے محبُوبﷺ ہے
زخم دے جو اس کو بھی چاہت ملے
میرے آقاﷺ کا یہی اسلُوب ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نامِ آقاﷺ پر سنبھل کر دیکھنا
اپنی قسمت کو بدل کر دیکھنا
خُلد کی وادی میں ہے کیسا مزا
طیبہ کی گلیوں میں چل کر دیکھنا
تجھ کو لے جائے کبھی شاید ہوا
طیبہ کی خاطر مچل کر دیکھنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا نبیﷺ جنت میں بھی لنگر ملے
آپؐ کے ہاتھوں سے جو کوثر ملے
پا پیادہ پہنچوں میں دربار تک
"تیرےؐ کُوچے کا اگر رہبر ملے"
ہو گئی دہلیز انﷺ کی عرش سی
شمس سے بڑھ کر وہاں کنکر ملے
اے دلِ مُضطر ہیں یہ نالے عبث
شکوۂ جاں! تیرے مقالے عبث
پلکیں ابرُو نین لب کافی ہیں بس
خنجر برچھی تیغ اور بھالے عبث
آنکھیں دیتی ہیں مجھے جامِ شراب
ساقیا! تیرے سبھی پیالے عبث
دیکھنا ہو جو قمر، اس کا سراپا دیکھو
گل کے پیکر میں مِرے یار کا چہرہ دیکھو
تم نے جو دیکھنا ہو چاند جھروکوں سے کبھی
شب کو حجرے سے کبھی اس کا نکلنا دیکھو
تیرا ہی نام لیے جاتا ہے دھک دھک میں یہ دل
کتنا پُر کیف ہے دھڑکن کا ترانہ دیکھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ کو کچھ رنج نہیں ملتے ہیں حرمان نئے
نعت کی شکل میں مل جاتے ہیں درمان نئے
ایک اک لفظ میں قرآن کے پوشیدہ ہیں
یا نبی آپﷺ کی توصیف کے عنوان نئے
تلووں کے بوسے بھی لوں اور تکوں رخ ان کا
قلبِ جبریل میں ہیں دیکھیے ارمان نئے