عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تصویر تِری دل میں ہر سُو ہی لگائی ہے
دھڑکن نے تِری خاطر کیا بزم سجائی ہے
دھڑکن کی صدا میں ہے تیرا ہی فقط چرچا
تیرے لیے ہی دل کا اندازِ نوائی ہے
ہے تُو ہی حسیں جگ میں تقریر نہیں اس پر
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
خُوشبو ہے ہواؤں میں رنگین فضائیں ہیں
محبوب کی یہ میرے کیا جلوہ نمائی ہے
کیا دیکھ لیا سب نے چہرہ مِرے ہمدم کا
دندان سے لوگوں نے کیوں اُنگلی دبائی ہے
کیا خوب طریقہ ہے اظہارِ محبت کا
میری ہی غزل تُم نے مجھ کو ہی سُنائی ہے
تیری ہے کرن جاناں تُو ہی ہے قمر اس کا
تسلیم ہے یہ مُجھ کو کیا اس میں بُرائی ہے
کرن زہرہ
No comments:
Post a Comment