بغض و نفرت نہ عداوت کا کوئی پھول اگا
دل کے آنگن میں محبت کا کوئی پھول اگا
اپنی بربادئ دل کا نہ گلہ کر اے دوست
غم کی ٹہنی پہ مسرّت کا کوئی پھول اگا
دیکھ رُسوا نہ کہیں کر دے زمانے میں تجھے
منصب و جاہ نہ دولت کا کوئی پھول اگا
کچھ تو آوارگئ دل کا نشاں چھوڑ چلیں
وادئ شوق میں وحشت کا کوئی پھول اگا
لے اڑیں گے اسے اک روز فضا کے جھونکے
کوچۂ دل میں نہ چاہت کا کوئی پھول اگا
اپنی خاطر نہ سہی اوروں کے خاطر بیتاب
راہِ پُر خار میں راحت کا کوئی پھول اگا
محمد حفیظ بیتاب
No comments:
Post a Comment