گمراہ ہو کے رہ گئے فرقوں میں بٹ گئے
وہ قافلے جو جادۂ الفت سے ہٹ گئے
اس حُسنِ التفات کے قربان جائیے
دیکھا مجھے تو سائے سے اپنے لپٹ گئے
ہم آج بھی ہیں عشق کا اک نقشِ تابناک
ہم وہ نہیں جو راہِ محبت سے ہٹ گئے
کوئی بچا سکا نہ سفینۂ حیات کا
موجوں سے بچ گیا تو کنارے لپٹ گئے
پرواز تھی فضاؤں میں کل جن کی بے مثال
افسوس آج ان کے بھی بازو سمٹ گئے
دانستہ یا تو مجھ کو فراموش کر دیا
یا کچھ ورق کتابِ محبت کے پھٹ گئے
گوہر عثمانی
No comments:
Post a Comment