Sunday, 11 January 2026

اس شہر بے کمال میں کچھ تو کمال کر

 اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر

دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر

جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا

رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر

جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا

رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر

اے دوست! تُو بھی جی نہ سکے گا مِرے بغیر

میرا نہیں خیال تو، اپنا خیال کر

یہ راہ عام راہ نہیں، راہِ عشق ہے

اے رہرانِ شوق! ذرا دیکھ بھال کر


حسن جاوید

No comments:

Post a Comment