کیوں بناتے ہو آشیاں لوگو
پھر جو چمکیں گی بجلیاں لوگو
چاندنی رات بھی اندھیری ہے
رنگ بدلا ہے آسماں لوگو
جل چکا ہے نشیمنِ امید
رات گزرے گی اب کہاں لوگو
جو بھی کرنا ہے آج ہی کر لو
وقت ٹھہرا ہے کب کہاں لوگو
ختم ہوتی نہیں کسی صورت
ہے عجب دل کی داستاں لوگو
کچھ تو اپنی سناؤ، میری سنو
پھر ملیں جانے ہم کہاں لوگو
ہمنوا ہو گیا جہان فرید
وہ ابھی تک ہے بدگماں لوگو
اقبال فرید میسوری
اقبال احمد خان
No comments:
Post a Comment