Sunday, 11 January 2026

کیوں بناتے ہو آشیاں لوگو

 کیوں بناتے ہو آشیاں لوگو

پھر جو چمکیں گی بجلیاں لوگو

چاندنی رات بھی اندھیری ہے

رنگ بدلا ہے آسماں لوگو

جل چکا ہے نشیمنِ امید

رات گزرے گی اب کہاں لوگو

جو بھی کرنا ہے آج ہی کر لو

وقت ٹھہرا ہے کب کہاں لوگو

ختم ہوتی نہیں کسی صورت

ہے عجب دل کی داستاں لوگو

کچھ تو اپنی سناؤ، میری سنو

پھر ملیں جانے ہم کہاں لوگو

ہمنوا ہو گیا جہان فرید

وہ ابھی تک ہے بدگماں لوگو


اقبال فرید میسوری

اقبال احمد خان

No comments:

Post a Comment