Sunday, 11 January 2026

خود ہی خود سے بھاگ رہے ہو تم بھی نا

 کن سوچوں میں ڈوب گئے ہو تم بھی نا

خود ہی خود سے بھاگ رہے ہو تم بھی نا

تم کو دیکھے بِن اک پل بھی چین نہیں

ایسے دل میں آن بسے ہو تم بھی نا

لاکھ جتن کر کے دل تم کو بھولا تھا

پھر سے مجھ کو آن ملے ہو تم بھی نا

تھک ہاری میں ڈھونڈ تمہیں ویرانوں میں

لیکن تم تو دل میں چھپے ہو تم بھی نا

دو قالب یک جان ہیں ہم تم جانِ وفا

پھر کیوں مجھ سے دور کھڑے ہو تم بھی نا

اب کی بات جدائی سہ نہ پاؤں گی

پھر سے مجھ کو چھوڑ چلے ہو تم بھی نا

آج تو ہیں انداز سبھی بے گانوں سے

اپنے ہو کر غیر بنے ہو تم بھی نا


حبیبہ اکرام

No comments:

Post a Comment