کن سوچوں میں ڈوب گئے ہو تم بھی نا
خود ہی خود سے بھاگ رہے ہو تم بھی نا
تم کو دیکھے بِن اک پل بھی چین نہیں
ایسے دل میں آن بسے ہو تم بھی نا
لاکھ جتن کر کے دل تم کو بھولا تھا
پھر سے مجھ کو آن ملے ہو تم بھی نا
تھک ہاری میں ڈھونڈ تمہیں ویرانوں میں
لیکن تم تو دل میں چھپے ہو تم بھی نا
دو قالب یک جان ہیں ہم تم جانِ وفا
پھر کیوں مجھ سے دور کھڑے ہو تم بھی نا
اب کی بات جدائی سہ نہ پاؤں گی
پھر سے مجھ کو چھوڑ چلے ہو تم بھی نا
آج تو ہیں انداز سبھی بے گانوں سے
اپنے ہو کر غیر بنے ہو تم بھی نا
حبیبہ اکرام
No comments:
Post a Comment