Wednesday, 28 January 2026

وقت کی ریت جب آنکھ میں چبھتی ہے

 وقت کی ریت


وقت کی ریت جب آنکھ میں چُبھتی ہے

تو محسوس ہوتا ہے

بُدھا تو سچ کہتا تھا

میرے ہونے کا احساس

سردی میں کپکپاتا ہے

رات کی آنکھوں سے خُون کے قطرے

صُبح تک ٹپکتے رہتے ہیں

شام میں ڈُوبتے سُورج کی سُرخی سے

خارش کی وبا پھُوٹتی ہے

جنگل میں راہ بھٹکے پنچھی

برفانی موسم کو کوستے ہیں

ہم اپنے کانوں میں رُوئی ٹھونسے

ہیرا منڈی سے ایسے گُزرتے ہیں

جیسے کوئی جہنّم ہو

جن کے قہقہے سُننے سے

ہم بہرے ہو جائیں گے

حالانکہ ہماری آنکھوں سے شہوت

شاہراہوں کے بدن کو نوچتی ہے

ہماری زبان کا جلاد

غمزدہ چہروں کو کاٹتا ہے

غریب بستی سے گُزرتے ہوئے

ہم ناک پر رومال رکھ کر

بُدھ کی باتوں کا اعتراف کرتے ہیں

جب کہ فرشتے ہم سے نالاں ہیں

فطرت ہم سے روتی ہے


حفیظ تبسم 

No comments:

Post a Comment