Tuesday, 13 January 2026

خوشا وہ زیست کہ ہوتی ہے بسر نعتوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خوشا وہ زیست کہ ہوتی ہے بسر نعتوں میں

للّٰہ الحمد کہ ہوں شام و سحر نعتوں میں

اپنے لفظوں میں کہاں تاب وتواں تھی اتنی

ان کی توصیف سے ہیں لعل و گہر نعتوں میں

ان کی یادوں سے بسا لیتا ہوں دل کی بستی

کھلتے جاتے ہیں جو توفیق کے در نعتوں میں

مدحِ محبوبِ خدا ان کی عطا پر موقوف

وصفِ بے معنی یہاں علم و ہنر نعتوں میں

سچے جذبوں کی کوئی فصل اُگا کر دیکھو

حسنِ اخلاق کا ملتا ہے ثمر نعتوں میں

دشتِ فرقت میں ندامت کی گھٹا برسی ہے

لہلہاتے ہیں نئے برگ و شجر نعتوں میں

مل ہی جائے گی کبھی ان کے لقا کی منزل

رہیے صلوٰت بہ لب محو ِسفر نعتوں میں

عشقِ سرکار کی گر شمع ہو روشن دل میں

خود بخود نُور کا بڑھتا ہے اثر نعتوں میں

جادۂ نعت ہے نوری یہ نہیں راہِ غزل

رکھیے قرآن کو بس پیشِ نظر نعتوں میں


ظفر اقبال نوری

No comments:

Post a Comment