Wednesday, 21 January 2026

محبت کا قرینا آ گیا ہے

 محبت کا قرینا آ گیا ہے

ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے

بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں

دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے

تری شادابیوں کا ذکر سن کر

گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے

بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی

وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے

مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے

تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے

سمجھے بیٹھے ہیں خود کو رند کامل

جنہیں دو گھونٹ پینا آ گیا ہے

جنوں اب تک تھا منشاء چاک داماں

اب اس کو چاک سینا آ گیا ہے


منشاء الرحمٰن

No comments:

Post a Comment