Monday, 12 January 2026

یہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے

 یہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے

تو دور ہے مجھ سے یہ سزا میرے لیے ہے

یہ حسن یہ عارض یہ مہکتی ہوئی زلفیں

یہ چال قیامت کی ادا میرے لیے ہے

اے پیرِ مغاں کیا تجھے معلوم نہیں ہے

میخانے میں پُر جامِ وفا میرے لیے ہے

جانے دو مجھے پاس ذرا میرے رقیبو

بیمار کے ہونٹوں پہ صدا میرے لیے ہے

بدلا ہوا رنگ دیکھ کے احساس ہوا یہ

محفل میں کوئی شخص اٹھا میرے لیے ہے

دل توڑ کے جاتے ہو تو بس اتنا بتا دو

ہر گام پہ یہ نقشِ وفا میرے لیے ہے

عفت مجھے کیسے نہ ملے گی مری منزل

کرتا ہے کوئی آج دعا میرے لیے ہے


شہناز عفت 

No comments:

Post a Comment