یہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے
تو دور ہے مجھ سے یہ سزا میرے لیے ہے
یہ حسن یہ عارض یہ مہکتی ہوئی زلفیں
یہ چال قیامت کی ادا میرے لیے ہے
اے پیرِ مغاں کیا تجھے معلوم نہیں ہے
میخانے میں پُر جامِ وفا میرے لیے ہے
جانے دو مجھے پاس ذرا میرے رقیبو
بیمار کے ہونٹوں پہ صدا میرے لیے ہے
بدلا ہوا رنگ دیکھ کے احساس ہوا یہ
محفل میں کوئی شخص اٹھا میرے لیے ہے
دل توڑ کے جاتے ہو تو بس اتنا بتا دو
ہر گام پہ یہ نقشِ وفا میرے لیے ہے
عفت مجھے کیسے نہ ملے گی مری منزل
کرتا ہے کوئی آج دعا میرے لیے ہے
شہناز عفت
No comments:
Post a Comment