Monday, 12 January 2026

بخت کی جب تختیاں لکھی گئیں

 بخت کی جب تختیاں لکھی گئیں

میرے حق میں تلخیاں لکھی گئیں

آپ کو بخشی گئی بادِ صبا

اور مجھ کو آندھیاں لکھی گئیں

ان کے سارے دوش تو بخشے گئے

میری ساری غلطیاں لکھی گئیں

جھوٹ ان کے سب نوازے ہی گئے

میرے سچ پہ پھانسیاں لکھی گئیں

کیسے ملتی ارتقاء تابش مجھے

بخت میں جب پستیاں لکھی گئیں


تابش دھرم کوٹی

ترسیم لال ٹھاکر

No comments:

Post a Comment