Wednesday, 21 January 2026

زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا

حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا

وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے

ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا

کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ

دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا

کبھی لہو کبھی مٹی جبیں پہ مل لینا

دلِ حسینؑ پہ اتریں قیامتیں کیا کیا

دیارِ شام! تجھے بھی گواہ رہنا ہے

سحر کے واسطے آئیں قیادتیں کیا کیا

یزید لمحے تو بے موت مرتے رہتے ہیں

تمہارے بعد کھلی ہیں حقیقتیں کیا کیا


حسن ناصر

No comments:

Post a Comment