اب ہر اک خیر میں موجود ہے شر کی صورت
باعث فخر ہوا عیب ہنر کی صورت
ملتی جلتی ہے کھنڈر سے مرے گھر کی صورت
چھت ہے انگنائی سی دیوار ہے در کی صورت
زندگی ختم ہوئی اور یہ حسرت ہی رہی
دل کی قیمت بھی لگاتا کوئی سر کی صورت
راہ تکتے ہیں کہ گزرے گا ادھر سے کوئی
اور آنکھیں ہیں کہ ہیں شمع سحر کی صورت
تم مری ذات سے مایوس نہ ہونا ہرگز
میں دبی راکھ سے ابھروں گا شرر کی صورت
ہجر میں ہم پہ جو گزرے ہے بیاں سے ہے بعید
کاش یہ ہو کہ ادھر بھی ہو ادھر کی صورت
ہم تو اس درجہ مہذب بھی نہ تھے اے افضل
ایسے نکلے تھے کہ پھر دیکھی نہ گھر کی صورت
افضل کرتپوری
افضال حسین
No comments:
Post a Comment