Saturday, 17 January 2026

اب ہر اک خیر میں موجود ہے شر کی صورت

 اب ہر اک خیر میں موجود ہے شر کی صورت

باعث فخر ہوا عیب ہنر کی صورت

ملتی جلتی ہے کھنڈر سے مرے گھر کی صورت

چھت ہے انگنائی سی دیوار ہے در کی صورت

زندگی ختم ہوئی اور یہ حسرت ہی رہی

دل کی قیمت بھی لگاتا کوئی سر کی صورت

راہ تکتے ہیں کہ گزرے گا ادھر سے کوئی

اور آنکھیں ہیں کہ ہیں شمع سحر کی صورت

تم مری ذات سے مایوس نہ ہونا ہرگز

میں دبی راکھ سے ابھروں گا شرر کی صورت

ہجر میں ہم پہ جو گزرے ہے بیاں سے ہے بعید

کاش یہ ہو کہ ادھر بھی ہو ادھر کی صورت

ہم تو اس درجہ مہذب بھی نہ تھے اے افضل

ایسے نکلے تھے کہ پھر دیکھی نہ گھر کی صورت


افضل کرتپوری

افضال حسین

No comments:

Post a Comment