چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے
آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دِکھلائے مجھے
آس کیا اب تو امیدِ نا امیدی بھی نہیں
کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے
دل دھڑکتا ہے شبِ غم میں کہیں ایسا نہ ہو
مرگ بھی بن کر مزاجِ یار ترسائے مجھے
چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے
آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دِکھلائے مجھے
آس کیا اب تو امیدِ نا امیدی بھی نہیں
کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے
دل دھڑکتا ہے شبِ غم میں کہیں ایسا نہ ہو
مرگ بھی بن کر مزاجِ یار ترسائے مجھے