Showing posts with label تسلیم لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label تسلیم لکھنوی. Show all posts

Thursday, 11 August 2022

چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

 چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دِکھلائے مجھے

آس کیا اب تو امیدِ نا امیدی بھی نہیں

کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

دل دھڑکتا ہے شبِ غم میں کہیں ایسا نہ ہو

مرگ بھی بن کر مزاجِ یار ترسائے مجھے

Thursday, 1 December 2016

ملنا ہے گر رقیب سے وہ بیوفا ملے

ملنا ہے گر رقیب سے وہ بے وفا ملے
چاہیں گے ہم بھی کوئی بتِ دلربا ملے
بس جی چکے، اجل کا الہٰی مزا ملے
آبِ بقا دے خضرؑ کو، مجھ کو فنا ملے
آئے ہیں پھول باغ میں اب سال بھر کے بعد
کیوں کر گلے نہ دوڑ کے بادِ صبا ملے

وعدہ وصل پہ وہ چھپ چھپ کے وفا کرتے ہیں

وعدۂ وصل پہ وہ چھپ چھپ کے وفا کرتے ہیں
خواب میں آ کے گلے مجھ سے ملا کرتے ہیں
کیوں خفا بیٹھے ہو منہ پھیرے ہوۓ تم ہم سے
دل کی کہتے ہیں، نہ غیروں کا گِلا کرتے ہیں
بت سے مطلب نہ کلیسا سے غرض کچھ ہم کو
جس کے بندے ہیں اسے یاد کیا کرتے ہیں

آ پڑے ہیں در پر ترے ہر کہیں سے ہم

آ پڑے ہیں در پر تِرے ہر کہیں سے ہم
گر حشر کو اٹھے تو اٹھیں گے یہیں سے ہم
کیوں پوچھتے ہو یہ، دلِ وحشی کہاں ملا
اب اس سے تم کو کیا، اسے لائے کہیں سے ہم
پائے طلب کو توڑ کے بیٹھے ہیں خاک پر
رکھتے نہیں غرض کسی مسند نشیں سے ہم

بنایا ہے کرم سے نقش پائے مصطفےٰ مجھ کو

بنایا ہے کرم سے نقش پائے مصطفٰیﷺ مجھ کو
نہ ڈالے گا جہنم میں کبھی میرا خدا مجھ کو
نتیجہ یہ ہوا آخر ستم کا صبر کرنے کا
خدائی پر جفا کہتی ہے تم کو باوفا مجھ کو
کہاں اب کاروانِ رفتہ کا نام و نشاں باقی
مگر ہاں کچھ سنائی دیتی ہے بانگِ درا مجھ کو

Wednesday, 23 November 2016

اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کا

اک آفتِ جاں ہے جو مداوا مِرے دل کا
اچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کا
کیوں بِھیڑ لگائی ہے مجھے دیکھ کے بیتاب
کیا کوئی تماشہ ہے تڑپنا مرے دل کا
بازارِ محبت میں کمی کرتی ہے تقدیر
بن بن کے بِگڑ جاتا ہے سودا مرے دل کا

کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظ

کیوں خرابات میں لافِ ہمہ دانی واعظ
کون سنتا ہے تِری ہرزہ بیانی واعظ
دفترِ وعظ کے نقطے بھی نہ ہوں گے اتنے 
جتنے ہیں دل میں مِرے داغِ نہانی واعظ
سچ سہی جنت و دوزخ کا فسانہ، لیکن 
کس طرح مان لوں میں تیری زبانی واعظ

چاندنی رہتی ہے شب بھر زیر پا بالائے سر​

چاندنی رہتی ہے شب بھر زیرِ پا بالائے سر​
ہائے میں اور ایک چادر زیرِ پا بالائے سر​
خار ہائے دشتِ غربت داغِ سودائے جنوں​
کچھ نہ کچھ رکھتا ہوں اکثر زیرِ پا بالائے سر​
بھاگ کر جاؤں کہاں پست و بلندِ دہر سے​
ہیں زمین و چرخ گھر گھر زیرِ پا بالائے سر​

Wednesday, 9 September 2015

بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھی

بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھی
صدقہ اپنا ساقیا! یک جامِ صہبا، اور بھی
ایک تو میں آپ ناصح ہُوں پریشاں، خستہ جاں
دل دُکھا دیتی ہے تیری پندِ بے جا اور بھی
داستانِ شوقِ دل، ایسی نہیں تھی مختصر
جی لگا کر تم اگر سنتے، میں کہتا اور بھی

شوق نظارہ نے گھر غیر کو کرنے نہ دیا

شوقِ نظارہ نے گھر غیر کو کرنے نہ دیا
آ گیا اشک جو آنکھوں میں، ٹھہرنے نہ دیا
ہم قدم سد رہ منزل مقصد نکلے
راستہ مجھ کو مِری گردِ سفر نے نہ دیا
رُو سِیہ سے نہ رکھ امید برومندی کی
ایک بھی پھل کبھی گل ہائے سپر نے نہ دیا

کی تھی دم کن یار سے آغوش ذرا گرم

کی تھی دم کن یار سے آغوش ذرا گرم
اب تک مِرے سینے سے نکلتی ہے ہوا گرم
اک روز تو آ کر مِری آغوش میں بیٹھو
ٹھنڈا دل پرسوز ہو، پہلو ہو ذرا گرم
پانی کو بنا دیتی ہے الفت کی ہوا آگ
آنسو مِری آنکھوں سے نکلتے ہیں بلا گرم