چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے
آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دِکھلائے مجھے
آس کیا اب تو امیدِ نا امیدی بھی نہیں
کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے
دل دھڑکتا ہے شبِ غم میں کہیں ایسا نہ ہو
مرگ بھی بن کر مزاجِ یار ترسائے مجھے
لے چلو لِلّہ کوئی خضرِ مینا کے حضور
عالمِ گم گشتگی کی راہ بتلائے مجھے
اب تو جوشِ آرزو تسلیم کہتا ہے یہی
روضۂ شاہِ نجفؑ اللّہ دِکھلائے مجھے
تسلیم لکھنوی
No comments:
Post a Comment