Thursday, 11 August 2022

چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

 چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دِکھلائے مجھے

آس کیا اب تو امیدِ نا امیدی بھی نہیں

کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

دل دھڑکتا ہے شبِ غم میں کہیں ایسا نہ ہو

مرگ بھی بن کر مزاجِ یار ترسائے مجھے

لے چلو لِلّہ کوئی خضرِ مینا کے حضور

عالمِ گم گشتگی کی راہ بتلائے مجھے

اب تو جوشِ آرزو تسلیم کہتا ہے یہی

روضۂ شاہِ نجفؑ اللّہ دِکھلائے مجھے


تسلیم لکھنوی

No comments:

Post a Comment