Thursday, 11 August 2022

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کرم کے سائے میں جی رہے ہیں

پلانے والے پلا رہے ہیں

پیاسے جی بھر کے پی رہے ہیں

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں


زمانے بھر سے جو زخم کھائے

طبیبِ اعلیٰؐ کے پاس آ کر

تمام زخموں کو سی رہے ہیں

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں


سبق یہ ذات العلیٰؐ سے پایا

صلہ رحمی کی زندگی میں

کبھی نہ کرتے کمی رہے ہیں

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں


نجات ممکن ہے راستے میں

اگر یہ اُسوہ وہی ہیں ممتاز

جو آقاﷺ کی زندگی رہے ہیں

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں


ممتاز ملک

No comments:

Post a Comment