تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے
تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے
بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے
ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے
اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے
کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے
تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے
تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے
بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے
ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے
اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے
کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے
بہت کٹھن ہے جیون یارو آؤ چلیں مے خانے کو
اس کے روپ سے جگ کی رونق پیار کریں پیمانے کو
بادل پھر آکاش پہ چھائے چاروں اور اندھیرا ہے
ایسے میں وہ دلبر آئے آس کی جوت جگانے کو
جوگی کس کے میت ہوئے ہیں، راہی سے مت پیار کرو
ندی چلی ہے بہتے بہتے ساگر میں گر جانے کو
خرابے میں محبت کا گزر ہے کہ نہیں
خیر دنیا میں بہ اندازۂ شر ہے کہ نہیں
دیکھیے آنکھ مِری آج بھی تر ہے کہ نہیں
دلِ محزوں پہ محبت کا اثر ہے کہ نہیں
منزلیں اور بھی ہیں منزلِ الفت کے سوا
میری آشفتہ مزاجی کو خبر ہے کہ نہیں
آپ کی چشمِ عنایت کبھی ایسی تو نہ تھی
اور تغافل پہ ندامت کبھی ایسی تو نہ تھی
یاد آتا ہوں میں کیوں ترکِ تعلق پر بھی
مہرباں مجھ سے محبت کبھی ایسی تو نہ تھی
آپ کے لطف و کرم کی میں تمنا کرتا
غم و آلام سے فرصت کبھی ایسی تو نہ تھی