Showing posts with label منظر دسنوی. Show all posts
Showing posts with label منظر دسنوی. Show all posts

Wednesday, 4 February 2026

تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

 تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے

بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے

ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے

اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے

کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے

Saturday, 26 July 2025

بہت کٹھن ہے جیون یارو آؤ چلیں میخانے کو

بہت کٹھن ہے جیون یارو آؤ چلیں مے خانے کو

اس کے روپ سے جگ کی رونق پیار کریں پیمانے کو

بادل پھر آکاش پہ چھائے چاروں اور اندھیرا ہے

ایسے میں وہ دلبر آئے آس کی جوت جگانے کو

جوگی کس کے میت ہوئے ہیں، راہی سے مت پیار کرو

ندی چلی ہے بہتے بہتے ساگر میں گر جانے کو

Wednesday, 11 January 2023

خرابے میں محبت کا گزر ہے کہ نہیں

خرابے میں محبت کا گزر ہے کہ نہیں

خیر دنیا میں بہ اندازۂ شر ہے کہ نہیں

دیکھیے آنکھ مِری آج بھی تر ہے کہ نہیں

دلِ محزوں پہ محبت کا اثر ہے کہ نہیں

منزلیں اور بھی ہیں منزلِ الفت کے سوا

میری آشفتہ مزاجی کو خبر ہے کہ نہیں

Monday, 10 January 2022

آپ کی چشم عنایت کبھی ایسی تو نہ تھی

آپ کی چشمِ عنایت کبھی ایسی تو نہ تھی

اور تغافل پہ ندامت کبھی ایسی تو نہ تھی

یاد آتا ہوں میں کیوں ترکِ تعلق پر بھی

مہرباں مجھ سے محبت کبھی ایسی تو نہ تھی

آپ کے لطف و کرم کی میں تمنا کرتا

غم و آلام سے فرصت کبھی ایسی تو نہ تھی