آپ کی چشمِ عنایت کبھی ایسی تو نہ تھی
اور تغافل پہ ندامت کبھی ایسی تو نہ تھی
یاد آتا ہوں میں کیوں ترکِ تعلق پر بھی
مہرباں مجھ سے محبت کبھی ایسی تو نہ تھی
آپ کے لطف و کرم کی میں تمنا کرتا
غم و آلام سے فرصت کبھی ایسی تو نہ تھی
زہے قسمت رسن و دار کے لائق ٹھہرا
اپنی ہم چشموں میں عزت کبھی ایسی تو نہ تھی
تیرے عارض کا ہے یہ عکس کہ آغاز بہار
اپنے گلشن کی لطافت کبھی ایسی تو نہ تھی
❤ اپنی برباد محبت پہ تحیر کیسا ❤
ان سے امید رفاقت کبھی ایسی تو نہ تھی
اشک کیوں ڈھلتے نہیں آنکھوں سے برسوں منظر
میرے دامن کو شکایت کبھی ایسی تو نہ تھی
منظر دسنوی
سید منظر حسن دسنوی
No comments:
Post a Comment