کسی سے جب تعلق ہی نہیں ذاتی ہمارا
یہاں پھر کون آیا ہے ملاقاتی ہمارا؟
یہ دل سینے میں کتنی دیر تک ٹھہرا رہے گا
رہا ہو جائے گا آخر حوالاتی ہمارا
زمیں پر ہم بڑھاتے جا رہے ہیں رنج ہی رنج
کہاں تک سہہ سکے گی بوجھ یہ چھاتی ہمارا
محبت کو بچانا جس طرح ممکن ہو صاحب
یہی تو اک یہاں نقصان ہے ذاتی ہمارا
خدا کو پیش کر دیتی ہماری بھی گزارش
فلک پر یہ ہوا آنسو ہی لے جاتی ہمارا
قمر رضا شہزاد
No comments:
Post a Comment