طاقِ جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دئیے
اس کے بعد جو غم آئے پھر ہنس کے ٹال دئیے
کب تک آڑ بنائے رکھتی اپنے ہاتھوں کو
کب تک جلتے تیز ہواؤں میں بے حال دئیے
وہی مقابل بھی تھا میرا سنگِ راہ بھی تھا
جس پتھر کو میں نے اپنے خد و خال دئیے
طاقِ جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دئیے
اس کے بعد جو غم آئے پھر ہنس کے ٹال دئیے
کب تک آڑ بنائے رکھتی اپنے ہاتھوں کو
کب تک جلتے تیز ہواؤں میں بے حال دئیے
وہی مقابل بھی تھا میرا سنگِ راہ بھی تھا
جس پتھر کو میں نے اپنے خد و خال دئیے
کبھی جو معرکہ خوابوں سے رتجگوں کا ہوا
عجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا
جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاقِ دل میں کبھی
کسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دِیوں کا ہوا
لکھا گیا ہے مِرا نام دشمنوں میں سدا
شمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا
کسی سے ہاتھ، کسی سے نظر ملاتے ہوئے
میں بجھ رہی ہوں روا داریاں نبھاتے ہوئے
کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی ہو کیسے
کہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے
عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھے
کہ راستوں سے گزرتی ہوں گنگناتے ہوئے
رنگ گھُل گئے کتنے زیست کی کہانی میں
چوم لی ہتھیلی جب اس نے بے دھیانی میں
بال کھولے گلیوں میں پھرتی ہے پوَن پاگل
روگ لگ گیا ہو گا اس کو بھی جوانی میں
آنکھ کا بھروسہ کیا، پَل میں کب بہک جائے
ہم نے غم کو رکھا ہے دل کی پاسبانی میں
ویسے تو رات کب کوئی بھاری نہیں ہوئی
جیسی ہے آج ایسی لاچاری نہیں ہوئی
اس کا طریق اور تھا،۔ اپنا طریق اور
سو زندگی سے عمر بھر یاری نہیں ہوئی
کس واسطے ہوا سے خود بڑھ کے ملاؤں ہاتھ
کچھ مضمحل ضرور ہوں، ہاری نہیں ہوئی