Showing posts with label شہناز نور. Show all posts
Showing posts with label شہناز نور. Show all posts

Monday, 26 April 2021

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دئیے

 طاقِ جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دئیے

اس کے بعد جو غم آئے پھر ہنس کے ٹال دئیے

کب تک آڑ بنائے رکھتی اپنے ہاتھوں کو

کب تک جلتے تیز ہواؤں میں بے حال دئیے

وہی مقابل بھی تھا میرا سنگِ راہ بھی تھا

جس پتھر کو میں نے اپنے خد و خال دئیے

Monday, 19 April 2021

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رتجگوں کا ہوا

 کبھی جو معرکہ خوابوں سے رتجگوں کا ہوا

عجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا

جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاقِ دل میں کبھی

کسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دِیوں کا ہوا

لکھا گیا ہے مِرا نام دشمنوں میں سدا

شمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا

Friday, 20 November 2020

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے

 کسی سے ہاتھ، کسی سے نظر ملاتے ہوئے

میں بجھ رہی ہوں روا داریاں نبھاتے ہوئے

کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی ہو کیسے

کہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے

عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھے

کہ راستوں سے گزرتی ہوں‌ گنگناتے ہوئے

Monday, 16 November 2020

رنگ گھل گئے کتنے زیست کی کہانی میں

 رنگ گھُل گئے کتنے زیست کی کہانی میں

چوم لی ہتھیلی جب اس نے بے دھیانی میں

بال کھولے گلیوں میں پھرتی ہے پوَن پاگل

روگ لگ گیا ہو گا اس کو بھی جوانی میں

آنکھ کا بھروسہ کیا، پَل میں کب بہک جائے

ہم نے غم کو رکھا ہے دل کی پاسبانی میں

ویسے تو رات کب کوئی بھاری نہیں ہوئی

 ویسے تو رات کب کوئی بھاری نہیں ہوئی

جیسی ہے آج ایسی لاچاری نہیں ہوئی

اس کا طریق اور تھا،۔ اپنا طریق اور

سو زندگی سے عمر بھر یاری نہیں ہوئی

کس واسطے ہوا سے خود بڑھ کے ملاؤں ہاتھ

کچھ مضمحل ضرور ہوں، ہاری نہیں ہوئی