رنگ گھُل گئے کتنے زیست کی کہانی میں
چوم لی ہتھیلی جب اس نے بے دھیانی میں
بال کھولے گلیوں میں پھرتی ہے پوَن پاگل
روگ لگ گیا ہو گا اس کو بھی جوانی میں
آنکھ کا بھروسہ کیا، پَل میں کب بہک جائے
ہم نے غم کو رکھا ہے دل کی پاسبانی میں
جب یہ چاہتا ہے دل، وقت اب ٹھہر جائے
ایسی ایک ساعت بھی آئی زندگانی میں
ورنہ وہ تو سب ہی سے مسکرا کے ملتا تھا
ہم نے کھو دیا خود کو نور خوش گمانی میں
شہناز نور
No comments:
Post a Comment