Monday, 16 November 2020

جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے

 جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے

وہاں بھی ہم دِیا بننے کی کوشش کر رہے تھے

ہمیں زورِ تصور بھی گنوانا پڑ گیا، ہم

تصور میں خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے

زمیں پر آ گرے جب آسماں سے خواب میرے

زمیں نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے

انہیں آنکھوں نے بیدردی سے بے گھر کر دیا ہے

یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے

ہمیں دشواریوں میں مسکرانے کی طلب تھی

ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے


عباس قمر

No comments:

Post a Comment