پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو
دل دیوانہ مچلتا ہے، مچل جانے دو
ڈال دو تم مری آنکھوں میں شرابی آنکھیں
میری حسرت مرے ارمان نکل جانے دو
تم تو اپنے رخ روشن سے ہٹا دو آنچل
چاندنی رات جو ڈھلتی ہے تو ڈھل جانے دو
راز کھل جائے گا گلشن کے نگہبانوں کا
اے بہارو! ہمیں گلشن سے نکل جانے دو
غم یہ ہے ان کی نگاہیں نہ بدل جائیں کہیں
گر بدلتا ہے زمانہ، تو بدل جانے دو
دوسرے دور کے آغاز سے پہلے یارو
لڑکھڑاتے ہوئے رِندوں کو سنبھل جانے دو
حسن والو دل انوؔر سے کنارہ نہ کرو
حسن کی شمع پہ پروانے کو جل جانے دو
انور شادانی
No comments:
Post a Comment