مسکرانے کو مِرے میری خطا سمجھو گے
اک بھلی بات کو یعنی کہ برا سمجھو گے
مجھ کو، پُرسش نا کروں گی تو کہو گے کافر
خود کو احوال جو پوچھوں تو خدا سمجھو گے
لاکھ پھرتے ہیں یہاں اہلِ کرم تم جیسے
خاک سمجھو گے اگر خود کو جدا سمجھو گے
آنکھ میلی ہے، زباں سستی ہے، سوچیں گروی
تم مِرے حرف کی تقدیس کو کیا سمجھو گے
نینا عادل
No comments:
Post a Comment