رنگ رسیا
تم چٹانوں سا مزاج رکھتے ہو
تمہیں کیا خبر
جب وہ چُنری اوڑھے ٹیلوں سے گزرتے
اپنا گھڑا کسی پیاسے کے سامنے انڈیلتی ہے
تو بادل تمنا کرتے ہیں کہ
سارا ساون اس مٹی کے گھڑے پہ برسا دیں
جب یہی پانی اس کی آنکھوں کو نم کرتا ہے
تو صحرا کی ساری ریت
اپنا کھارا پن بھولنے لگتی ہے
وہ جو اپنے من میں حسرتوں کا پیاسا تھل لیے
دوسروں کو سیراب کرتی پھرتی ہے
تمہاری اک نظر مثلِ ابر ہے اسے
تم کیا جانو رنگوں سے مزین دل کیسا ہوتا ہے
تم کچے رنگوں میں رہے ہو
اس کے آنسوؤں کا بے رنگ پانی
اس کے آنچل میں جذب ہو کر رنگین بنتے کب دیکھا ہے
تم بس صحرا میں بسی تپش سے واقف ہو
اس کی ٹھنڈی میٹھی ہنسی کی پھوار کہاں دیکھی ہے
رنگ رسیا! تم نے صحرا میں گھومتی
وہ پانی کی بوند کہاں دیکھی ہے
رابعہ ساجد
No comments:
Post a Comment