Showing posts with label اصغر گورکھپوری. Show all posts
Showing posts with label اصغر گورکھپوری. Show all posts

Wednesday, 28 September 2022

ہاں اے فقیر شہر دل آزار دیکھنا

 آپ وہ اور میں (سہ رنگی کلام؛ نظم، نظم، غزل)

٭٭٭٭ آپ:: نظمیہ رنگ ٭٭٭٭

ہاں اے فقیرِ شہرِ دل آزار دیکھنا

گھر سے نکل کے وقت کی رفتار دیکھنا

پڑھنا ہر ایک چہرے پہ لکھے ہوئے حروف

ہر موڑ پر نوشتۂ دیوار دیکھنا

ہر شام جا کے دیکھنا جلسے عوام کے

ہر روز اٹھ کے صبح کا اخبار دیکھنا

Friday, 8 April 2022

چلتے چلتے رک جاتا ہے

 چلتے چلتے رک جاتا ہے

دیوانہ کچھ سوچ رہا ہے

اس جنگل کا ایک ہی رستہ

جس پر جادو کا پہرا ہے

دور گھنے پیڑوں کا منظر

مجھ کو آوازیں دیتا ہے

Thursday, 7 April 2022

آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے

 آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے

وہ درد کا پودا جو مِرے دل میں اگا ہے

جاں دے کے بھی چاہوں تو اسے پا نہ سکوں میں

وہ چاند کا ٹکڑا جو دریچے میں جڑا ہے

سیلاب ہیں چہروں کے تو آواز کے دریا

یہ شہرِ تمنا تو نہیں دشت‌ِ صدا ہے

Sunday, 21 March 2021

ہم دشت سے ہر شام یہی سوچ کے گھر آئے

 ہم دشت سے ہر شام یہی سوچ کے گھر آئے

شاید کہ کسی شب تِرے آنے کی خبر آئے

معلوم کسے شہرِ طلسمات کا رستہ

کچھ دُور مِرے ساتھ تو مہتابِ سفر آئے

اس پھول سے چہرے کی طلب راحتِ جاں ہے

پھینکے کوئی پتھر بھی تو احساں مِرے سر آئے

Saturday, 20 March 2021

اک عمر مہ و سال کی ٹھوکر میں رہا ہوں

 اک عمر مہ و سال کی ٹھوکر میں رہا ہوں

میں سنگ سہی پھر بھی سرِ راہ وفا ہوں

آپ اپنے ہی ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں

آواز ہوں لیکن تِرے ہونٹوں سے جدا ہوں

کیا کم ہے کہ رسوائے جہاں ہوں تِری خاطر

میں داغ ہوں لیکن تِرے ماتھے پہ سجا ہوں