Friday, 8 April 2022

چلتے چلتے رک جاتا ہے

 چلتے چلتے رک جاتا ہے

دیوانہ کچھ سوچ رہا ہے

اس جنگل کا ایک ہی رستہ

جس پر جادو کا پہرا ہے

دور گھنے پیڑوں کا منظر

مجھ کو آوازیں دیتا ہے

دم لوں یا آگے بڑھ جاؤں

سر پر بادل کا سایا ہے

اس ظالم کی آنکھیں نم ہیں

پتھر سے پانی رستا ہے

بھیگا بھیگا صبح کا آنچل

رات بہت پانی برسا ہے


اصغر گورکھپوری

No comments:

Post a Comment