Showing posts with label فیض راحیل. Show all posts
Showing posts with label فیض راحیل. Show all posts

Monday, 7 March 2022

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

 جسم کی ریت بھی مُٹھی سے پھسل جائے گی

موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی

صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو

یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی

اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا

تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی

Saturday, 5 March 2022

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے

 قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے

کہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیے

کسی فقیر کا جس نے نہ احترام کیا

وہ مسجدوں میں ملا مجھ کو احترام لیے

تِرے عذاب میں مر کر تِرے دریچے سے

میں جا رہا ہوں محبت کا انتقام لیے

Tuesday, 11 January 2022

نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں

 نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں

دن سے بچ نکلے بدن رات میں مر جاتے ہیں

کرتے ہیں اپنی زباں سے جو دلوں کو زخمی

دب کے اک دن وہ اسی بات میں مر جاتے ہیں

یاد آتی ہے تیری جب بھی گلابی باتیں

ڈوب کر تیرے خیالات میں مر جاتے ہیں

Monday, 10 January 2022

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

 غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں

ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے

سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں

ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں

Wednesday, 29 September 2021

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں

صبح لکھتی ہے تِرا نام مِری آنکھوں میں

قیدِ تنہائی کی ہے شام مری آنکھوں میں

نیند آتی ہے دعا دے کے چلی جاتی ہے

اشک جب کرتا ہے آرام مری آنکھوں میں

اب تِرے نقشِ کفِ پا کو مٹانے خوشبو

آئی ہے گردشِ ایام مری آنکھوں میں