جسم کی ریت بھی مُٹھی سے پھسل جائے گی
موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی
صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو
یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی
اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا
تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی
جسم کی ریت بھی مُٹھی سے پھسل جائے گی
موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی
صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو
یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی
اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا
تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی
قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے
کہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیے
کسی فقیر کا جس نے نہ احترام کیا
وہ مسجدوں میں ملا مجھ کو احترام لیے
تِرے عذاب میں مر کر تِرے دریچے سے
میں جا رہا ہوں محبت کا انتقام لیے
نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیں
دن سے بچ نکلے بدن رات میں مر جاتے ہیں
کرتے ہیں اپنی زباں سے جو دلوں کو زخمی
دب کے اک دن وہ اسی بات میں مر جاتے ہیں
یاد آتی ہے تیری جب بھی گلابی باتیں
ڈوب کر تیرے خیالات میں مر جاتے ہیں
غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں
لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں
ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے
سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں
ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا
میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں
صبح لکھتی ہے تِرا نام مِری آنکھوں میں
قیدِ تنہائی کی ہے شام مری آنکھوں میں
نیند آتی ہے دعا دے کے چلی جاتی ہے
اشک جب کرتا ہے آرام مری آنکھوں میں
اب تِرے نقشِ کفِ پا کو مٹانے خوشبو
آئی ہے گردشِ ایام مری آنکھوں میں