Monday, 10 January 2022

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

 غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں

لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں

ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے

سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں

ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں

تِری بستی کے مجرے سے تِری اوقات کیا پوچھوں

گدھے بھی شیر بن جاتے اپنی میزبانی میں

میں پڑھ کر ہوش کھو بیٹھا تِرے قصے کو اے فرقت

محبت کا نشہ ہے اس شبِ غم کی کہانی میں

وہ پیلی اوڑھنی والی ابھی بھی دل میں رہتی ہے

یہ لڑکا کھو گیا ہے اس کے رنگ زعفرانی میں

وہ جس دن فیض آئے گی میری چوکھٹ پہ ملنے کو

اسی دن معجزہ ہو گا مِری بھی زندگانی میں


فیض راحیل

No comments:

Post a Comment