مطربہ
چل ذرا تیز چل
اے سبکسار یادوں کے انبوہ تُو
ڈھیریاں چھانٹ لے
بیڑیوں سے زیادہ بہاؤ دِکھا
لاریوں کے تواتر سے کم عمر ہے
زندگی ایک ساعت کی ہم عمر ہے
گا ذرا مطربہ، گائے جا مطربہ
خواب میں رہنے والوں کو
اظہار کی پٹّیاں مت پڑھا
آنکھ کھلنے تلک
کوئی وعظ و نصیحت نہیں کام کی
جام کھلنے تلک
اشک یوں مت بہا
کھول دے سارے بھیدوں کے در
لوٹ جا مطربہ
رات کی پوتھیوں میں اُترتا ہوا
ایک صبح وساوس کا آزار ہے، کون تیار ہے؟
آخری وار ہے
پاس آ مطربہ
بھول جانے کی رٹ آخرش کب تلک
سوچ لے، تجھ سے کس نے کہا
بھول جا مطربہ
پانیوں کے بہاؤ سی آواز ہے
تیری آواز میں سوز ہے ساز ہے
نغمۂ ہجر پر رقص کر، کِھلکِھلا
کھوکھلے قہقہے مت لگا مطربہ
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment