Monday, 10 January 2022

کہیں ایسا نہ ہو دل درد سے ہلکان ہو جائے

 کہیں ایسا نہ ہو دل درد سے ہلکان ہو جائے

دعا کرنا، محبت کا سفر آسان ہو جائے

نہ آئے آنچ رشتوں پر نہ ٹوٹے چاہتوں کا گھر

اگر انسان کو انسان کی پہچان ہو جائے

رگ و پے میں اترتا جا رہا ہے زہر کی صورت

بہت ممکن ہے مجھ کو عشق کا سرطان ہو جائے

چلو آؤ وضو کر لیں ہم اپنے بہتے اشکوں سے

نہ جانے کب کہاں پر وصل کی اذان ہو جائے

جو تم کو جان کہتا ہے اسے اک بار مل جاؤ

کہیں ایسا نہ ہو وہ ہجر میں بے جان ہو جائے

قضا لینے کو آئی ہے اسے انکار مت کرنا

بری سی بات ہے ناراض گر مہمان ہو جائے


فرخ اظہار

No comments:

Post a Comment