دائرے
کاش کہ تم تدریجی عمل کے دوران ہی جان لو کہ
زندگی کے ہوائی اڈے کے ہینگر پر
متعدد قابل مرمت طیارے رکے رہتے ہیں
ہو سکتا ہے کہ تم بھی گراؤنڈ ہو چکی ہو، یا
گیراج کی زندگی بسر کر رہی ہو
دائرے
کاش کہ تم تدریجی عمل کے دوران ہی جان لو کہ
زندگی کے ہوائی اڈے کے ہینگر پر
متعدد قابل مرمت طیارے رکے رہتے ہیں
ہو سکتا ہے کہ تم بھی گراؤنڈ ہو چکی ہو، یا
گیراج کی زندگی بسر کر رہی ہو
حالات حاضرہ
میں خبردار ہوں کہ تمہارے دماغ کی لائبریری میں موجود
جنیٹک معلومات کی ادھوری فائلیں قابل اعتماد نہیں
لہٰذا بیس یا پچیس سوالوں کے ذریعے
درست جواب پانے والے کھیل میں
تم مجھے کبھی نہیں بوجھ سکو گی
ہر شے ستاروں کے مادے سے وجود میں آئی
کششِ ثقل حد سے بڑھتی چلی جائے تو
روشنی کی کرنیں خمیدہ ہوتے ہوتے لوٹ آتی ہیں
ضروری گیسوں کے ایٹم
مناقشے کے مثل کاٹ پیٹ کا شکار ہو جاتے ہیں
جس طرح بچپن سے نوجوانی کے عرصے میں داخل ہوتے
میں تمہارے لیے نئے نظاِم شمسی کا انتخاب کر رہا ہوں
کائنات کی کہکشاؤں میں کئی ایک سیارے
اپنے اپنے سورجوں سے ہماری طرح جڑے ہوئے ہیں
ہمارا جذب اور بڑھا تو
باطن سے کوئی جذبہ بھی باہر نہیں نکل سکے گا
سبھی جذبات اور واقعات باطن بُرد ہوتے چلے جائیں گے
حالات حاضرہ
جن پھولوں کو بر وقت پانی
اور کھاد دینے والا کوئی نہیں ہوتا
بالآخر وہ شکاری بن کر
اپنے قریب سے گزرنے والے والے
کیڑے مکوڑوں کو ہڑپ کرنے لگتے ہیں
اٹوٹ انگ
مِرا سر تم اپنے ہی زانو پہ رکھ کر
مجھے پوچھتی ہو
کہ میں کون ہوں
کیا ہوں، کیسے ہوں؟
سارے سوالوں کو مُٹھی میں رکھ کر
جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں
تو آنکھیں اشک خوں برسائیاں ہیں
پرانے زخم کر دیتی ہیں تازہ
ستمگر کس قدر پروائیاں ہیں
یہ روز و شب یہ صبح و شام کیا ہیں
نگار وقت کی انگڑائیاں ہیں
حیرت سے دیکھتا ہے مِرا نقش پا مجھے
یارانِ تیز گام! یہ کیا ہو گیا مجھے
خود میرے دل میں شوقِ سفر ہی نہیں رہا
اب لاکھ بھیجیں منزلیں اپنا پتا مجھے
سمجھا تھا بس حیات کو خوابوں کی جلوہ گاہ
اک دل کا داغ کر گیا خود آشنا مجھے
غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا
ایک صحرائے الم تھا ہمسفر کوئی نہ تھا
اس کو بھی ہم نے یہی سمجھا تماشا ہے کوئی
جب کھلیں آنکھیں نشانِ سنگِ در کوئی نہ تھا
وقت ہم کو ٹھوکروں پر ٹھوکریں دیتا رہا
اور اپنے ہاتھ میں تیر و تبر کوئی نہ تھا
بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا
کہیں سراغِ وفا، قصہ مختصر نہ ملا
مچل رہے تھے جبینِ نیاز میں سجدے
یہ اور بات مقدر سے سنگِ در نہ ملا
کریدتے رہے سب دوست میرے زخموں کو
سبھی نے طنز کیے، کوئی چارہ گر نہ ملا
ہر ایک سمت ہے اک جیت ہار کا موسم
اب ایک خواب سا لگتا ہے پیار کا موسم
اسی کو گردشِ لیل و نہار کہتے ہیں
کبھی خزاں ہے کبھی ہے بہار کا موسم
چمن میں دُھوم مچی ہے کہ فصلِ گُل آئی
یہی ہے دامنِ صد تار تار کا موسم