Showing posts with label اظہر غوری. Show all posts
Showing posts with label اظہر غوری. Show all posts

Sunday, 19 March 2023

زندگی کے ہوائی اڈے کے ہینگر پر

 دائرے


کاش کہ تم تدریجی عمل کے دوران ہی جان لو کہ

زندگی کے ہوائی اڈے کے ہینگر پر

متعدد قابل مرمت طیارے رکے رہتے ہیں

ہو سکتا ہے کہ تم بھی گراؤنڈ ہو چکی ہو، یا

گیراج کی زندگی بسر کر رہی ہو

Saturday, 18 March 2023

تم مجھے کبھی نہیں بوجھ سکو گی

 حالات حاضرہ


میں خبردار ہوں کہ تمہارے دماغ کی لائبریری میں موجود

جنیٹک معلومات کی ادھوری فائلیں قابل اعتماد نہیں

لہٰذا بیس یا پچیس سوالوں کے ذریعے

درست جواب پانے والے کھیل میں

تم مجھے کبھی نہیں بوجھ سکو گی

Friday, 17 March 2023

ہر شے ستاروں کے مادے سے وجود میں آئی

 ہر شے ستاروں کے مادے سے وجود میں آئی

کششِ ثقل حد سے بڑھتی چلی جائے تو

روشنی کی کرنیں خمیدہ ہوتے ہوتے لوٹ آتی ہیں

ضروری گیسوں کے ایٹم 

مناقشے کے مثل کاٹ پیٹ کا شکار ہو جاتے ہیں

جس طرح بچپن سے نوجوانی کے عرصے میں داخل ہوتے

Thursday, 16 March 2023

میں تمہارے لیے نئے نظاِ شمسی کا انتخاب کر رہا ہوں

 میں تمہارے لیے نئے نظاِم شمسی کا انتخاب کر رہا ہوں

کائنات کی کہکشاؤں میں کئی ایک سیارے

اپنے اپنے سورجوں سے ہماری طرح جڑے ہوئے ہیں

ہمارا جذب اور بڑھا تو

باطن سے کوئی جذبہ بھی باہر نہیں نکل سکے گا

سبھی جذبات اور واقعات باطن بُرد ہوتے چلے جائیں گے

Tuesday, 14 March 2023

حالات حاضرہ

 حالات حاضرہ


جن پھولوں کو بر وقت پانی 

اور کھاد دینے والا کوئی نہیں ہوتا

بالآخر وہ شکاری بن کر

اپنے قریب سے گزرنے والے والے 

کیڑے مکوڑوں کو ہڑپ کرنے لگتے ہیں

Monday, 21 March 2022

مرا سر تم اپنے ہی زانو پہ رکھ کر مجھے پوچھتی ہو

 اٹوٹ انگ


مِرا سر تم اپنے ہی زانو پہ رکھ کر

مجھے پوچھتی ہو

کہ میں کون ہوں

کیا ہوں، کیسے ہوں؟

سارے سوالوں کو مُٹھی میں رکھ کر

Friday, 28 January 2022

جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں

 جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں

تو آنکھیں اشک خوں برسائیاں ہیں

پرانے زخم کر دیتی ہیں تازہ

ستمگر کس قدر پروائیاں ہیں

یہ روز و شب یہ صبح و شام کیا ہیں

نگار وقت کی انگڑائیاں ہیں

Saturday, 22 January 2022

حیرت سے دیکھتا ہے مرا نقش پا مجھے

 حیرت سے دیکھتا ہے مِرا نقش پا مجھے

یارانِ تیز گام! یہ کیا ہو گیا مجھے

خود میرے دل میں شوقِ سفر ہی نہیں رہا

اب لاکھ بھیجیں منزلیں اپنا پتا مجھے

سمجھا تھا بس حیات کو خوابوں کی جلوہ گاہ

اک دل کا داغ کر گیا خود آشنا مجھے

Saturday, 1 January 2022

غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا

 غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا

ایک صحرائے الم تھا ہمسفر کوئی نہ تھا

اس کو بھی ہم نے یہی سمجھا تماشا ہے کوئی

جب کھلیں آنکھیں نشانِ سنگِ در کوئی نہ تھا

وقت ہم کو ٹھوکروں پر ٹھوکریں دیتا رہا

اور اپنے ہاتھ میں تیر و تبر کوئی نہ تھا

Tuesday, 7 December 2021

بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا

 بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا

کہیں سراغِ وفا، قصہ مختصر نہ ملا

مچل رہے تھے جبینِ نیاز میں سجدے

یہ اور بات مقدر سے سنگِ در نہ ملا

کریدتے رہے سب دوست میرے زخموں کو

سبھی نے طنز کیے، کوئی چارہ گر نہ ملا

Sunday, 11 July 2021

ہر ایک سمت ہے اک جیت ہار کا موسم

 ہر ایک سمت ہے اک جیت ہار کا موسم

اب ایک خواب سا لگتا ہے پیار کا موسم

اسی کو گردشِ لیل و نہار کہتے ہیں

کبھی خزاں ہے کبھی ہے بہار کا موسم

چمن میں دُھوم مچی ہے کہ فصلِ گُل آئی

یہی ہے دامنِ صد تار تار کا موسم