Wednesday, 14 October 2026

آج قسمت آزمائی ہو گئی

 آج قسمت آزمائی ہو گئی

کُوئے جاناں میں رسائی ہو گئی

وہ نہ مِلتے تو نہ تھا کوئی گِلہ

غم یہ ہے مِل کر جُدائی ہو گئی

آشنائی سے ہے جو ناآشنا

اس سے اپنی آشنائی ہو گئی

کیا نگاہِ ناز بھی شمشِیر تھی

جس طرف دیکھا صفائی ہو گئی

وہ تو شوشہ چھوڑ کر چلتے بنے

غیر سے میری لڑائی ہو گئی

اُس بتِ کافر کا جوبن دیکھ کر

ختم ساری پارسائی ہو گئی

پھر نہ لیں گے نام اُلفت کا کبھی

اب کے گر غم سے رِہائی ہو گئی

وہ بِگڑ اُٹھے سوالِ وصل پر

باتوں باتوں میں لڑائی ہو گئی

عشق میں دیکھا رقابت کا مزا

دُشمنِ جاں اِک خُدائی ہو گئی

مِٹ گیا ہاجر طبیعت کا غُبار

شُکر ہے اُن سے صفائی ہو گئی


ہاجر دہلوی

No comments:

Post a Comment