Showing posts with label کرامت بخاری. Show all posts
Showing posts with label کرامت بخاری. Show all posts

Sunday, 9 July 2023

جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

 جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

اس کو پتھر کا ڈر نہیں ہوتا

آنکھ میں بھی چمک نہیں ہوتی

جب وہ پیش نظر نہیں ہوتا

مے کدے میں یہ ایک خوبی ہے

ناصحا! تیرا ڈر نہیں ہوتا

Sunday, 12 November 2017

اگر تم بیچنا چاہو ادائیں بھی وفائیں بھی

اگر تم بیچنا چاہو 
ادائیں بھی وفائیں بھی 
حسیں خوابوں کے رنگوں کی ردائیں بھی 
یہ دنیا ہے 
یہاں آواز بکتی ہے 
یہاں تصویر بکتی ہے 

Friday, 10 February 2017

حدوں کو پار کیا تو حدود میں آیا

مال حسن تھا چشمِ حسود میں آیا
حدوں کو پار کیا تو حدود میں آیا
ہر اک حصار سے باہر تھا زیست کا لمحہ
قضا نے قید کیا تو قیود میں آیا
جمالِ ماہِ منور کی آرزو لے کر
ستارہ شام کا شہرِ شہود میں آیا

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے
لگتا ہے، آج دل کے کوئی آس پاس ہے
پھر تشنہ لب کھڑا ہوں سمندر کے سامنے
یہ میری پیاس ہے کہ سمندر کی پیاس ہے
کھُلتا نہیں نگاہ پہ کہ کس جگہ پہ ہوں
شہرِ طلب ہے یا کوئی دشتِ ہراس ہے

اک شہر افسوس ہے جس میں

شہرِ افسوس

اک شہرِ افسوس ہے جس میں 
یادوں کے بازار سجے ہیں 
زخموں کا سرمایہ لے کر 
لوگ یہاں پر آ جاتے ہیں 
اس شہرِ افسوس میں اکثر 
لمحے حیرت بن جاتے ہیں 

زمیں پر آسماں رکھا ہوا ہے

زمیں پر آسماں رکھا ہُوا ہے
مجھے بھی درمیاں رکھا ہوا ہے
چھپا کر اپنے راز لاکھوں
مجھے رازداں رکھا ہوا ہے
بِنا دیکھے اسے تا عمر چاہیں
یہ کیا امتحاں رکھا ہوا ہے

Monday, 31 October 2016

کیوں جاگتے ہو کیا سوچتے ہو کچھ ہم سے کہو

کیوں جاگتے ہو
کیا سوچتے ہو
کچھ ہم سے کہو
تنہا نہ رہو
سوچا نہ کرو
یادوں کے برستے بادل کو پلکوں پہ سجانا ٹھیک نہیں
جو اپنے بس کی بات نہ ہو، اس کو دہرانا ٹھیک نہیں

ہمارا کیا ہے ہماری عادت سی ہو چکی ہے

ہمارا کیا ہے
ہماری عادت سی ہو چکی ہے
شفق کی بے خواب وادیوں میں بھٹکتے رہنا
گئی بہاروں کو یاد کرنا
فریب خوردہ سماعتوں کے فسوں میں رہنا
افق میں تحلیل ہوتے رنگوں کو رتجگوں میں تلاش کرنا

Saturday, 23 April 2016

قریہ معرفت جہاں تک ہے

قریۂ معرفت جہاں تک ہے
منزلِ عشق بھی وہاں تک ہے
دل کی دیوانگی یہ پوچھتی ہے
ہوش کی سلطنت کہاں تک ہے
صورت کا سلسلہ سماعت تک
بات کا ذائقہ زباں تک ہے

اک سمندر ہے اور بھنور کتنے

اک سمندر ہے اور بھنور کتنے 
جانے درپیش ہیں سفر کتنے
وہ زمانے تیری رفاقت کے
آج لگتے ہیں مختصر کتنے
ہم کو اس راہ گزارِ ہستی میں 
سکھ کے سائے ملے مگر کتنے

دشت فرقت میں دے صدا مجھ کو

دشتِ فرقت میں دے صدا مجھ کو
اپنی صورت ذرا دکھا مجھ کو
میں ہوں تنہا وفا کی راہوں پر
اپنا کوئی پتا بتا مجھ کو
مجھ کو بھی دعوائے محبت ہے
آتشِ عشق میں جلا مجھ کو

Thursday, 14 January 2016

زخم کھا کر بھی دعا کرتے تھے

زخم کھا کر بھی دعا کرتے تھے
ایسے بھی لوگ ہُوا کرتے تھے
سب کو آسانیاں دے کر پھر بھی
خود وہ مشکل میں رہا کرتے تھے
ہائے وہ لوگ جو سچ کی خاطر
جھوٹ کو جھوٹ کہا کرتے تھے

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے
لگتا ہےآج دل کے کوئی آس پاس ہے
پھر تشنہ لب کھڑا ہوں سمندر کے سامنے
یہ میری پیاس ہے کہ سمندر کی پیاس ہے
کھلتا نہیں نگاہ پہ کہ کس جگہ پہ ہوں
شہرِ طلب ہے یا کوئی دشتِ ہراس ہے

سلسلہ زیست کی اداؤں کا​

سلسلہ زیست کی اداؤں کا​
کھیل جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا​
ناؤ ڈوبی تو ہُوا معلوم​
کیا ارادہ تھا ناخداؤں کا​
خواہشوں کے چراغ جل نہ سکے​
اس قدر زور تھا ہواؤں کا​

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھایا گیا ہوں

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھایا گیا ہوں
کسی الجھن میں الجھایا گیا ہوں
میں حیراں ہوں کہ اِس حیرت کدے میں
کہاں تھا، اور کہاں لایا گیا ہوں
سمٹ سکتی ہے کیسے میری وسعت
مثالِ دشت پھیلایا گیا ہوں

Monday, 16 November 2015

انصاف جو نادار کے گھر تک نہیں پہنچا

انصاف جو نادار کے گھر تک نہیں پہنچا
سمجھو کہ ابھی ہاتھ ثمر تک نہیں پہنچا
مژگاں پہ رکے ہیں ابھی ڈھلکے نہیں آنسو
یہ سوچ کا سیلاب سفر تک نہیں پہنچا
کچھ لوگ ابھی خیر کی خواہش کے امیں ہیں
دستار کا جھگڑا ابھی سر تک نہیں پہنچا

حادثے حق کی حمایت نہیں کرنے دیتے

حادثے حق کی حمایت نہیں کرنے دیتے
گویا کچھ لوگ عبادت نہیں کرنے دیتے
کیا قیامت ہے کہ اب تو مِری سرکار کے لوگ
مجھ کو نفرت سے بھی نفرت نہیں کرنے دیتے
تشنگی حد سے بڑھتی جاتی ہے اہل دل کی
پھر بھی ساقی کی شکایت نہیں کرنے دیتے

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے
ذرا سوچو ہوا دینے سے پہلے
ہر اک فرعون کو ملتی ہے مہلت
کلیمی کا عصا دینے سے پہلے
کوئی جھوٹی گواہی بھی نہیں تھی
میرے سچ کو سزا دینے سے پہلے