زخم کھا کر بھی دعا کرتے تھے
ایسے بھی لوگ ہُوا کرتے تھے
سب کو آسانیاں دے کر پھر بھی
خود وہ مشکل میں رہا کرتے تھے
ہائے وہ لوگ جو سچ کی خاطر
ہاں وہی چاک گریباں والے
ہاں وہی لوگ وفا کرتے تھے
اب تو ہر شخص ولی ہے شاید
ہم تو انساں تھے خطا کرتے تھے
راہ بر و راہِ محبت کتنے
روز رستے میں ملا کرتے تھے
اب انہیں ڈھونڈتا رہتا ہوں کہ جو
صبر کا درس دیا کرتے تھے
کرامت بخاری
No comments:
Post a Comment