Thursday, 14 January 2016

زخم کھا کر بھی دعا کرتے تھے

زخم کھا کر بھی دعا کرتے تھے
ایسے بھی لوگ ہُوا کرتے تھے
سب کو آسانیاں دے کر پھر بھی
خود وہ مشکل میں رہا کرتے تھے
ہائے وہ لوگ جو سچ کی خاطر
جھوٹ کو جھوٹ کہا کرتے تھے
ہاں وہی چاک گریباں والے
ہاں وہی لوگ وفا کرتے تھے
اب تو ہر شخص ولی ہے شاید
ہم تو انساں تھے خطا کرتے تھے
راہ بر و راہِ محبت کتنے
روز رستے میں ملا کرتے تھے
اب انہیں ڈھونڈتا رہتا ہوں کہ جو
صبر کا درس دیا کرتے تھے

کرامت بخاری

No comments:

Post a Comment