Thursday, 14 January 2016

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے

دل مضطرب ہے اور طبیعت اداس ہے
لگتا ہےآج دل کے کوئی آس پاس ہے
پھر تشنہ لب کھڑا ہوں سمندر کے سامنے
یہ میری پیاس ہے کہ سمندر کی پیاس ہے
کھلتا نہیں نگاہ پہ کہ کس جگہ پہ ہوں
شہرِ طلب ہے یا کوئی دشتِ ہراس ہے
یہ سادگی نہیں تو اسے اور کیا کہوں
پھر آسماں سے مجھ کو بھلائی کی آس ہے
جانے ہوائے شب کی اداؤں کو کیا ہُوا
شوریدہ سر ہے ۔۔ اور دریدہ لباس ہے

کرامت بخاری

No comments:

Post a Comment