کوئی تقریب ہو لاچاریاں ہیں
بڑے لوگوں سے رشتےداریاں ہیں
ہماری کج کُلاہی پر نہ جاؤ
ابھی ہم میں وہی خودداریاں ہیں
مروت، آؤ بھگتی، وضعداری
یہ پچھلے عہد کی بیماریاں ہیں
کوئی تقریب ہو لاچاریاں ہیں
بڑے لوگوں سے رشتےداریاں ہیں
ہماری کج کُلاہی پر نہ جاؤ
ابھی ہم میں وہی خودداریاں ہیں
مروت، آؤ بھگتی، وضعداری
یہ پچھلے عہد کی بیماریاں ہیں
نظر میں جلوے ہی جلوے سمیٹ لائے ہیں
ہم آج زہرہ جبینوں سے مل کے آئے ہیں
انہیں نمودِ سحر کا پیام بر کہیۓ
شبِ ستم میں بھی جو لوگ مسکرائے ہیں
زہے نصیب کہ لالہ رخوں کی محفل سے
ہم اپنے سینے میں کچھ پھول چن کے لائے ہیں
تمام شہر کے لوگوں کو مت اکٹھا کر
میں ہوں فقیر، ملاقات مجھ سے تنہا کر
مِرے بزرگوں نے دنیا کی کلفتوں کو چُنا
نشاط و عشرتِ بزمِ جہاں کو ٹُھکرا کر
انہیں سمٹتی ہوئی زندگی کا علم نہیں
بڑے گھروں میں جو سوتے ہیں پاؤں پھیلا کر
ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے
ٹوٹی ہوئی کشتی سے اترنا بھی نہیں ہے
بیٹھے ہیں شب و روز تصور میں اسی کے
وہ راہگزر جس سے گزرنا بھی نہیں ہے
لکھیں گے بہ ہر حال حکایاتِ جنوں ہم
سچائی قلم میں ہے تو ڈرنا بھی نہیں ہے
اک منظرِ فریبِ محبت ہے، پیار ہے
چہرے بتا رہے ہیں دلوں میں غبار ہے
میں سن رہا ہوں بڑھتی ہوئی شورشوں کی چاپ
دنیا سمجھ رہی ہے فضا سازگار ہے
چل میرے ساتھ اور قدم تول تول کر
صبر و رضا کی راہ بڑی پیچ دار ہے