Showing posts with label جلیل ساز. Show all posts
Showing posts with label جلیل ساز. Show all posts

Saturday, 13 November 2021

کوئی تقریب ہو لاچاریاں ہیں

 کوئی تقریب ہو لاچاریاں ہیں

بڑے لوگوں سے رشتےداریاں ہیں

ہماری کج کُلاہی پر نہ جاؤ

ابھی ہم میں وہی خودداریاں ہیں

مروت، آؤ بھگتی، وضعداری

یہ پچھلے عہد کی بیماریاں ہیں

Saturday, 30 October 2021

نظر میں جلوے ہی جلوے سمیٹ لائے ہیں

 نظر میں جلوے ہی جلوے سمیٹ لائے ہیں

ہم آج زہرہ جبینوں سے مل کے آئے ہیں

انہیں نمودِ سحر کا پیام بر کہیۓ

شبِ ستم میں بھی جو لوگ مسکرائے ہیں

زہے نصیب کہ لالہ رخوں کی محفل سے

ہم اپنے سینے میں کچھ پھول چن کے لائے ہیں

Friday, 29 October 2021

تمام شہر کے لوگوں کو مت اکٹھا کر

 تمام شہر کے لوگوں کو مت اکٹھا کر 

میں ہوں فقیر، ملاقات مجھ سے تنہا کر 

مِرے بزرگوں نے دنیا کی کلفتوں کو چُنا

نشاط و عشرتِ بزمِ جہاں کو ٹُھکرا کر

انہیں سمٹتی ہوئی زندگی کا علم نہیں

بڑے گھروں میں جو سوتے ہیں پاؤں پھیلا کر

Monday, 12 July 2021

ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے

 ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی سے اترنا بھی نہیں ہے

بیٹھے ہیں شب و روز تصور میں اسی کے

وہ راہگزر جس سے گزرنا بھی نہیں ہے

لکھیں گے بہ ہر حال حکایاتِ جنوں ہم

سچائی قلم میں ہے تو ڈرنا بھی نہیں ہے

Thursday, 8 July 2021

اک منظر فریب محبت ہے پیار ہے

 اک منظرِ فریبِ محبت ہے، پیار ہے

چہرے بتا رہے ہیں دلوں میں غبار ہے

میں سن رہا ہوں بڑھتی ہوئی شورشوں کی چاپ

دنیا سمجھ رہی ہے فضا سازگار ہے

چل میرے ساتھ اور قدم تول تول کر

صبر و رضا کی راہ بڑی پیچ دار ہے