کوئی تقریب ہو لاچاریاں ہیں
بڑے لوگوں سے رشتےداریاں ہیں
ہماری کج کُلاہی پر نہ جاؤ
ابھی ہم میں وہی خودداریاں ہیں
مروت، آؤ بھگتی، وضعداری
یہ پچھلے عہد کی بیماریاں ہیں
خوشا جن کو میسر آئیں نیندیں
یہاں تو عمر بھر بیداریاں ہیں
نہیں ہے آدمی کے بس میں کچھ بھی
تو پھر کاہے کی خود مختاریاں ہیں
وزیر و میر ہوں یا شیخ و واعظ
سبھی لوگوں میں ظاہر داریاں ہیں
نہیں ہے مونسِ جاں ساز کوئی
دکھاوے کی فقط دلداریاں ہیں
جلیل ساز
No comments:
Post a Comment