جب سے ہے میرے پاؤں میں چھالا پڑا ہوا
ہر سمت دشت میں ہے اجالا پڑا ہوا
کل شب کسی کی یاد کا طوفان آ گیا
منظر ہے صبح کا تہہ و بالا پڑا ہوا
اتنا تو زود رنج کبھی دل نہ تھا مِرا
اب ہے تمہارے ہجر سے پالا پڑا ہوا
اس راہ سے جو پھر کبھی گزرو تو سوچنا
ہو گا تمہارا چاہنے والا پڑا ہوا
سگرٹ جلی تو آگ مِرے دل کی بجھ گئی
لیکن جگر کا رنگ ہے کالا پڑا ہوا
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment