Saturday, 13 November 2021

جب سے ہے میرے پاؤں میں چھالا پڑا ہوا

 جب سے ہے میرے پاؤں میں چھالا پڑا ہوا

ہر سمت دشت میں ہے اجالا پڑا ہوا

کل شب کسی کی یاد کا طوفان آ گیا

منظر ہے صبح کا تہہ و بالا پڑا ہوا

اتنا تو زود رنج کبھی دل نہ تھا مِرا

اب ہے تمہارے ہجر سے پالا پڑا ہوا

اس راہ سے جو پھر کبھی گزرو تو سوچنا

ہو گا تمہارا چاہنے والا پڑا ہوا

سگرٹ جلی تو آگ مِرے دل کی بجھ گئی

لیکن جگر کا رنگ ہے کالا پڑا ہوا


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment