میں اپنے جرم کا جب اعتراف کرتا ہوں
پھر اس کا فیصلہ اپنے خلاف کرتا ہوں
میں پہلے دیتا ہوں ترتیب حلقۂ احباب
پھر اپنے لوگوں کو اپنے خلاف کرتا ہوں
میں کیسے مان لوں ہر بات، آسماں تیری
زمین زاد ہوں، سو اختلاف کرتا ہوں
میں اپنے جرم کا جب اعتراف کرتا ہوں
پھر اس کا فیصلہ اپنے خلاف کرتا ہوں
میں پہلے دیتا ہوں ترتیب حلقۂ احباب
پھر اپنے لوگوں کو اپنے خلاف کرتا ہوں
میں کیسے مان لوں ہر بات، آسماں تیری
زمین زاد ہوں، سو اختلاف کرتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ آ رہی ہے مسلسل صدا مدینے سے
ہر ایک شخص کا ہو گا بھلا مدینے سے
کسی سے اس کی خطاؤں پہ درگزر کرنا
مِرے مزاج میں شامل ہوا مدینے سے
مِرے بزرگ تھے عشقِ نبیؐ سے وابستہ
مِرا بھی ٹوٹا نہیں سلسلہ مدینے سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا کا حکم ہے اور حکم تا قیامت ہے
درِ رسولِ معظمﷺ درِ ہدایت ہے
حجاب سارے اٹھائے گئے شبِ معراج
حضورؐ آپ کی کتنی بڑی فضیلت ہے
نبیؐ کی آل کا سایہ، نبیِ کا دستِ کرم
زمین والوں پہ یہ آسمانِ رحمت ہے
ہنستا رہتا ہوں میں سب جھُوٹ کے کرداروں پر
اک نظر پڑتی ہے جب صُبح کے اخباروں پر
دیکھنے والوں نے کب کان دھرے، چلتے بنے
کوئی آواز 🕬 بناتا رہا فن پاروں پر
وصل کی آگ ہی اب ہم کو بچا سکتی ہے
برف اب جمنے لگی ہجر کے کُہساروں پر
خواہشِ وصل کے زندان میں رکھا ہوا ہے
خود کو اک شخص کے امکان میں رکھا ہوا ہے
حوصلہ پڑتا نہیں، کیسے اٹھاؤں اس کو؟
ہجر کا دُکھ بھی تو سامان میں رکھا ہوا ہے
دیکھنے والے بھی حیران ہوئے جاتے ہیں
دل نے ہر زخم نمک دان میں رکھا ہوا ہے