Showing posts with label علی ایاز. Show all posts
Showing posts with label علی ایاز. Show all posts

Saturday, 19 April 2025

میں اپنے جرم کا جب اعتراف کرتا ہوں

 میں اپنے جرم کا جب اعتراف کرتا ہوں 

پھر اس کا فیصلہ اپنے خلاف کرتا ہوں

میں پہلے دیتا ہوں ترتیب حلقۂ احباب

پھر اپنے لوگوں کو اپنے خلاف کرتا ہوں 

میں کیسے مان لوں ہر بات، آسماں تیری 

زمین زاد ہوں، سو اختلاف کرتا ہوں 

Friday, 5 July 2024

یہ آ رہی ہے مسلسل صدا مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ آ رہی ہے مسلسل صدا مدینے سے 

ہر ایک شخص کا ہو گا بھلا مدینے سے 

کسی سے اس کی خطاؤں پہ درگزر کرنا 

مِرے مزاج میں شامل ہوا مدینے سے

مِرے بزرگ تھے عشقِ نبیؐ سے وابستہ

مِرا بھی ٹوٹا نہیں سلسلہ مدینے سے 

Thursday, 4 July 2024

خدا کا حکم ہے اور حکم تا قیامت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خدا کا حکم ہے اور حکم تا قیامت ہے

درِ رسولِ معظمﷺ درِ ہدایت ہے

حجاب سارے اٹھائے گئے شبِ معراج

حضورؐ آپ کی کتنی بڑی فضیلت ہے

نبیؐ کی آل کا سایہ، نبیِ کا دستِ کرم

زمین والوں پہ یہ آسمانِ رحمت ہے

Wednesday, 3 July 2024

ہنستا رہتا ہوں میں سب جھوٹ کے کرداروں پر

 ہنستا رہتا ہوں میں سب جھُوٹ کے کرداروں پر 

اک نظر پڑتی ہے جب صُبح کے اخباروں پر 

دیکھنے والوں نے کب کان دھرے، چلتے بنے 

کوئی آواز 🕬 بناتا رہا فن پاروں پر 

وصل کی آگ ہی اب ہم کو بچا سکتی ہے

برف اب جمنے لگی ہجر کے کُہساروں پر 

Friday, 1 July 2022

خواہش وصل کے زندان میں رکھا ہوا ہے

خواہشِ وصل کے زندان میں رکھا ہوا ہے

خود کو اک شخص کے امکان میں رکھا ہوا ہے

حوصلہ پڑتا نہیں، کیسے اٹھاؤں اس کو؟

ہجر کا دُکھ بھی تو سامان میں رکھا ہوا ہے

دیکھنے والے بھی حیران ہوئے جاتے ہیں

دل نے ہر زخم نمک دان میں رکھا ہوا ہے