Showing posts with label مصطفیٰ دلکش. Show all posts
Showing posts with label مصطفیٰ دلکش. Show all posts

Saturday, 3 February 2024

ترا نام ہے محمد تری بزم آسماں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِرا نام ہے محمدﷺ تِری بزم آسماں ہے

مِرا گھر زمیں کے اوپر تِری راہ کہکشاں ہے

تُو ہے اوّل اور آخر، تُو شفیعِ روزِ محشر

ہے میرا وجود فانی تُو حیات جاں وِداں ہے

مجھے کملی میں چُھپا لے کہ اے کالی کملی والے

تُو سراپا نُورِ وحدت میری زندگی دُھواں ہے

Thursday, 9 November 2023

ذکر احمد نہ ہو بندگی کچھ نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذکرِ احمدﷺ نہ ہو بندگی کچھ نہیں

جز محبت نبیﷺ دائمی کچھ نہیں

مل گئی دولتِ شاہ دیں دیکھئے

زندگی میں مری اب کمی کچھ نہیں

الفت احمد مصطفیٰﷺ کے سوا

مانگا ہم نے خدا سے کبھی کچھ نہیں

Saturday, 16 April 2022

نور ہے یا کمال ہے کیا ہے

 نور ہے یا کمال ہے کیا ہے

مجھ میں تیرا جمال ہے کیا ہے

جاتے جاتے نہ کچھ کہا مجھ سے

دل میں میرا ملال ہے کیا ہے

کون مجھ کو اچھال ہے رکھا

کیا یہ تیرا خیال ہے کیا ہے

Tuesday, 29 March 2022

جو مال غریبوں کا دن رات لٹا ہو گا

 جو مال غریبوں کا دن رات لٹا ہو گا

تاریک لحد میں کیا انجام ہوا ہو گا

کیا حال ہوا ہو گا اے یار ہوا ہو گا

جب بھوک کا سورج اس کے گھر میں اُگا ہو گا

دہلیز پہ یادوں کے دستک تو دیا ہو گا

جب جاکے کہیں یارا دروازہ کھلا ہو گا

Sunday, 20 March 2022

ادھر کی تھکن ہے ادھر تھکن ہے

 اِدھر کی تھکن ہے اُدھر تھکن ہے

تھکن میں مِری جاں! تمہارا بدن ہے

فضا کیسی آئی چمن میں بتاؤ

کہ سہما ہوا باغباں یہ چمن ہے

مِری جاں بجھائیں کہ شعلوں میں لپٹا

ہمارا بدن ہے، تمہارا بدن ہے

Tuesday, 15 March 2022

بغاوت پہ لعنت عداوت پہ لعنت

 بغاوت پہ لعنت عداوت پہ لعنت

زمانے کی گندی سیاست پہ لعنت

ہیں آنکھیں سبھی کی یہاں نم وطن میں

اے ظالم تِری اس حکومت پہ لعنت

جھلستے ہیں معصوم بچے یہاں پر

اے سورج تِری اس تمازت پہ لعنت

Thursday, 17 February 2022

اگر میں جھوٹ بولوں تو مرا کردار خطرے میں

 اگر میں جھوٹ بولوں تو مِرا کردار خطرے میں

اگر سچ بو لتا ہوں تو مِری دستار خطرے میں

زمانہ دشمنِ جاں ہو گیا سچ بات کہنے پر

بڑی مشکل میں جاں ہے آج کل ہوں یار خطرے میں

امیرِ شہر کی خاطر سڑک تعمیر ہوتی ہے

غریبوں کے مکاں آتے ہیں اور اشجار خطرے میں

Wednesday, 16 February 2022

فکر اور فن کی شان تھے راحت

 فکر اور فن کی شان تھے راحت

بزمِ اردو کی جان تھے راحت

چھوڑ کر وہ چلے گئے ہم کو

خود میں جو اک جہان تھے راحت

پیار وہ ہر کسی سے کرتے تھے

سچ کہوں تو مہان تھے راحت

Tuesday, 15 February 2022

آپ بھی یہ چاہتے ہیں مسکرانا چھوڑ دیں

  آپ بھی یہ چاہتے ہیں مسکرانا چھوڑ دیں

زندگی کو ہم گلے اپنے لگانا چھوڑ دیں

کیا تصور میں بھی گھر آباد کر سکتے نہیں

زلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں

ضبطِ دل سے کام لیں اہلِ محبت فرض ہے

بھول کر کیا قصۂ غم بھی سنانا چھوڑ دیں