بغاوت پہ لعنت عداوت پہ لعنت
زمانے کی گندی سیاست پہ لعنت
ہیں آنکھیں سبھی کی یہاں نم وطن میں
اے ظالم تِری اس حکومت پہ لعنت
جھلستے ہیں معصوم بچے یہاں پر
اے سورج تِری اس تمازت پہ لعنت
بہت ہی دکھی ہے رعایا یہاں کی
اے ظالم تِری بادشاہت پہ لعنت
جوانوں کا تم نے کفن بیچ ڈالا
اے تاجر کفن کی تجارت پہ لعنت
دھواں اٹھ رہا ہے یہاں دل جلے ہیں
اے حاکم تمہاری شرارت پہ لعنت
سدا بیج بوتے ہو نفرت کا تم جو
ہے عادت بری ایسی عادت پہ لعنت
یہ رہزن یہ قاتل تمہارے ہیں ساتھی
اے ناداں تمہاری قیادت پہ لعنت
غریبوں کا ہو خون شامل جہاں بھی
اے دلکش حسیں اس عمارت پہ لعنت
مصطفیٰ دلکش
No comments:
Post a Comment