مُنتظر ہوں یہاں بہاروں کی
تیری آنکھوں کے ان نظاروں کی
کیا سُناؤں میں غم کے ماروں کی
داستاں ہے بھری خساروں کی
بات میں نے سُنی ہزاروں کی
پھر بھی دُنیا خفا ہے یاروں کی
مُنتظر ہوں یہاں بہاروں کی
تیری آنکھوں کے ان نظاروں کی
کیا سُناؤں میں غم کے ماروں کی
داستاں ہے بھری خساروں کی
بات میں نے سُنی ہزاروں کی
پھر بھی دُنیا خفا ہے یاروں کی
چوکیدار
ایک سافٹ ڈرنک کی قیمت میں
دسمبر کی سردی میں
جب ہمیں اپنے بستر سے
دروازے تک جانا
نا ممکن لگتا ہے
درد حرف چُننے لگے
اس کی مردانگی کو
میرے آنسوؤں کی حاجت تھی
وہ میری روح کو
اس وقت تک داغتا رہا
جب تک اس کی پوروں میں
بانسری
میرے وجود میں
پیاس کی بانسری بجتی ہے
اور سارے رنگ ناچتے ہیں
اعمال
ایمان سے جُدا نہیں ہوتے
سوچنے کی فرصت نہیں
سوز و الم سے
ہُنر کی طرح
کھیلنے والے
پیوند لباس
سوال آشنا
لافانی
رُسوا ہو کر بھی
محبت اپنے مرتبے میں
لافانی رہے گی
آتشِ شوق میں جل بھی جائیں تو
ہماری راکھ سے جنم لے گا
خدا کو مشورے مت دو
خدا کو مشورے مت دو
وہ خاموشی
سرگوشی اور چیخ کی تاثیر
لہو میں دیکھتا ہے
بیداری ہمارا راز
یاداشتیں
تکیے کی بوسیدہ روئی میں دفن خواب
کپڑوں کی تہہ میں چھپے خط
ٹشو پیپر پر جما دکھ ایک پھٹی کتاب
ڈائری میں سویا گلاب
گڑیا کی جوتی