Showing posts with label بشریٰ سعید. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ سعید. Show all posts

Wednesday, 1 November 2023

منتظر ہوں یہاں بہاروں کی

 مُنتظر ہوں یہاں بہاروں کی

تیری آنکھوں کے ان نظاروں کی

کیا سُناؤں میں غم کے ماروں کی

داستاں ہے بھری خساروں کی

بات میں نے سُنی ہزاروں کی

پھر بھی دُنیا خفا ہے یاروں کی

Wednesday, 28 July 2021

چوکیدار ایک سافٹ ڈرنک کی قیمت میں

 چوکیدار


ایک سافٹ ڈرنک کی قیمت میں

دسمبر کی سردی میں

جب ہمیں اپنے بستر سے

دروازے تک جانا

نا ممکن لگتا ہے

Monday, 17 May 2021

اس کی مردانگی کو میرے آنسوؤں کی حاجت تھی

درد حرف چُننے لگے


 اس کی مردانگی کو

میرے آنسوؤں کی حاجت تھی

وہ میری روح کو

اس وقت تک داغتا رہا

جب تک اس کی پوروں میں

Monday, 26 April 2021

میرے وجود میں پیاس کی بانسری بجتی ہے

 بانسری


میرے وجود میں

پیاس کی بانسری بجتی ہے

اور سارے رنگ ناچتے ہیں

اعمال

ایمان سے جُدا نہیں ہوتے

Monday, 19 April 2021

سوچنے کی فرصت نہیں

 سوچنے کی فرصت نہیں


سوز و الم سے

ہُنر کی طرح

کھیلنے والے

پیوند لباس

سوال آشنا

Friday, 16 April 2021

رسوا ہو کر بھی محبت اپنے مرتبے میں لافانی رہے گی

 لافانی


رُسوا ہو کر بھی

محبت اپنے مرتبے میں

لافانی رہے گی

آتشِ شوق میں جل بھی جائیں تو

ہماری راکھ سے جنم لے گا

خدا کو مشورے مت دو

 خدا کو مشورے مت دو


خدا کو مشورے مت دو

وہ خاموشی

سرگوشی اور چیخ کی تاثیر

لہو میں دیکھتا ہے

بیداری ہمارا راز

Tuesday, 5 January 2021

تکیے کی بوسیدہ روئی میں دفن خواب

 یاداشتیں


تکیے کی بوسیدہ روئی میں دفن خواب

کپڑوں کی تہہ میں چھپے خط

ٹشو پیپر پر جما دکھ ایک پھٹی کتاب

ڈائری میں سویا گلاب

گڑیا کی جوتی