خدا کو مشورے مت دو
خدا کو مشورے مت دو
وہ خاموشی
سرگوشی اور چیخ کی تاثیر
لہو میں دیکھتا ہے
بیداری ہمارا راز
اور سونا سدا کی مجبوری ہے
ہوا، پانی، مٹی اور کفن
زندگی کے سارے رنگ پھیکے ہیں
چادر اوڑھ کر بھی
بصارت بے لباس ہو جاتی ہے
سورج کے پہرے
رات کے ایوانوں پہ نہیں لگتے
انکار کا زخم ہرا رہتا ہے
خدا کو مشورے مت دو
بشریٰ سعید
No comments:
Post a Comment