Friday, 16 April 2021

خدا کو مشورے مت دو

 خدا کو مشورے مت دو


خدا کو مشورے مت دو

وہ خاموشی

سرگوشی اور چیخ کی تاثیر

لہو میں دیکھتا ہے

بیداری ہمارا راز

اور سونا سدا کی مجبوری ہے

ہوا، پانی، مٹی اور کفن

زندگی کے سارے رنگ پھیکے ہیں

چادر اوڑھ کر بھی

بصارت بے لباس ہو جاتی ہے

سورج کے پہرے

رات کے ایوانوں پہ نہیں لگتے

انکار کا زخم ہرا رہتا ہے

خدا کو مشورے مت دو


بشریٰ سعید

No comments:

Post a Comment