حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
تلاش
تم کو پھولوں کی خوشبو میں تلاش کیا ہے
تم کو دنیا کی روشنی میں تلاش کیا ہے
دور دور تک تیرا اتا ہے نہ پتا ہے
جی چاہتا ہے بارش کی بوندوں میں تلاش کروں
لیکن بارش کی بوندوں میں تو پانی ہے
پھولوں کی خوشبو میں تو خوشبو ہے
سرحدِ غم کے پار جاتے ہوئے
رو دی میں اپنا بوجھ ڈھاتے ہوئے
اتنی خاموشی تھی مرے اندر
مطمئن خود کو کیا چلاتے ہوئے
نیند پھر لوٹ کر نہیں آئی
سو گئے تارے ٹمٹماتے ہوئے
عشق جب ساتھ چلا، شاملِ تدبیر ہوا
حوصلہ بڑھتے ہوئے صورتِ شمشیر ہوا
رنگ کاغذ سے بہت دیر تلک اُلجھے رہے
دُکھ بہت بعد میں جا کر کہیں تصویر ہوا
قیس والوں سے مجھے صرف یہی پوچھنا تھا
کیا کبھی دشت زدہ صاحبِ توقیر ہوا؟
دل کے آنگن میں طاقچے ڈھونڈے
عشق حیرت کے مرحلے ڈھونڈے
شور چڑیا کا یاد پڑتا ہے
آنکھ بچپن کے گھونسلے ڈھونڈے
دشتِ الفت سے کون لوٹا ہے؟
تم نے ناحق وہ قافلے ڈھونڈے